فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بتایا ہے کہ صہیونی جیلوں میں زیرحراست بھوک ہڑتالی اسیر خالی پیٹوں اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے پرعزم ہیں اور دوسری جانب قابض فوج نے اسیران کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے ان پر مظالم بڑھا دیے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صحرائے نقب کی جیل میں جیل انتظامیہ نے بھوک ہڑتالی چھ اسیران کو قید تنہائی میں ڈال دیا ہے۔ ان اسیران نے حال میں اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال میں شمولیت اختیار کی تھی۔ قید تنہائی میں ڈالے گئے اسیران میں نضال دغلس، رائد سرحان، علام نصار، جمیل درعاوی، محمد علی حسین اور عاصم العویصی شامل ہیں۔
انسانی حقوق گروپ کے مطابق ایک دوسری جیل "نفحہ” میں صہیونی انتظامیہ نے بھوک ہڑتالی اسیران کی کوٹھڑیوں کی بجلی کاٹ دی ہے جس کے باعث سخت گرمیں انہیں روشنی اور ہوا سے محروم کردیا گیا ہے۔ اسیران کو بلیک میل کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ وہ بھوک ہڑتال ترک کردیں توان کی بجلی بحال کردی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق نفحہ جیل میں کل 600 اسیران ہیں جن سے 400 بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھوک ہڑتالی اسیران کی اکثریت کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔ بھوک ہڑتال جاری رکھنے پر بئرسبع جیل سے سترہ اسیران کو عسقلان جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

