رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ محمد القیق پہلے فلسطینی اسیر ہیں جن کی بھوک ہڑتال زبردستی ختم کرنے کے لیے انہیں جبری خوراک دینے کا ظالمانہ عمل شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھوک ہڑتالی قیدیوں کی ہڑتال ختم کرانے کے لیے زبردستی خوراک دینے کا ظالمانہ قانون پچھلے سال جولائی میں منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد فلسطینی قیدیوں کا بھوک ہڑتال کا عزم توڑنا اور انہیں آئندہ کے لیے بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے سے روکنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عیسیٰ القراقع نے بتایا کہ صہیونی فوج کی نگرانی حکام کی تین رکنی کمیٹی نے بھوک ہڑتال اسیر محمد القیق کو زبردستی خوراک دی۔ کمٹی میں العفولہ اسپتال کے تین ڈاکٹر شامل تھے جن میں ایک میڈیکل ڈاکٹر، ایک نفسیاتی ڈاکٹر اور ایک سماجی کارکن شامل تھے۔ زبردستی خوراک دینے سے قبل القیق کو اس کے بستر کے ساتھ باندھ دیا گیا جس کے بعد اسے نار کے ذریعے خوراک ایک پائپ گذار کر خوراک کی نالی میں داخل کیا گیا اور اس کے ذریعے خوراک دی گئی۔
فلسطینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین کی جانب سے اس قانون پرپابندی کے مطالبے کےباوجود صہیونی حکام زبردستی خوراک دینے کے ظالمانہ قانون پرعمل درآمد کررہے ہیں۔
