مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "ریڈ کراس” کی بین الاقوامی کمیٹی کے ڈائریکٹر جاک ڈی مایو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل جیل میں پچاس دن سے بھوک ہڑتال کرنےوالے فلسطینی قیدی خضر عدنان کی طبی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہوچکی ہے اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ بھوک ہڑتال اسیر کی زندگی بچانے کے لیے اس کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
انسانی حقوق کے مندوب نے قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی جیلوں میں ہونے والی بدسلوکی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بین الاقوامی قانون ہردرجے کے قیدیوں کو مناسب خوراک اور دیگر تمام بنیادی حقوق فراہم کرنے کی سفارش کرتا ہے لیکن اسرائیلی جیلوں میں ڈالے گئے افراد کو بنیادی حقوق میسرنہیں ہیں۔
ڈی مایو نے اسرائیلی انتظامیہ سے اسیر عدنان کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ پچھلے دو ماہ سے عدنان کو اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ خضرعدنان نے اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف مئی کے اوائل میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ پچاس روزگذرنے کے باوجود صہیونی انتظامیہ اس کے مطالبات کو تسلیم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جس کےنتیجے میں اسیر کی حالت بری طرح خراب ہو چکی ہے۔
