ایک جانب اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی خالی پیٹوں اپنے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں اور دوسری جانب فلسطین بھرمیں عوام کی جانب سے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں اور جلسے جلوس نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعہ کے روز غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران کے ساتھ یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں۔ غزہ کی پٹی میں نکالی گئی ریلی میں لاکھوں افراد شریک تھے۔ دوسری جانب مغربی کنارے کے شہروں جنین اور بیت لحم میں بھی اسیران کے ساتھ یکجہتی کے جلوس نکالے گئے۔
نماز جمعہ کے بعد جنین میں ہزاروں افراد نے بھوک ہڑتالی اسیر بلال ذیاب کے گھرکے باہرجمع ہوکر احتجاج کیا۔ خیال رہے کہ بلال ذیاب اسرائیلی جیل میں گذشتہ 47 روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ طویل بھوک ہڑتال کے باعث اسیر کی حالت سنگین خطرے سے دوچارہے اور اسے رملہ جیل کی ایک فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جنین میں نکالی گئی ریلی میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی جیل انتظامیہ کی طرف سے فلسطینی اسیران کے ساتھ روا رکھےگئے ظالمانہ سلوک کی شدید مذمت کی اور تمام بھوک ہڑتالی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
درایں اثناء نماز جمعہ کے بعد بیت لحم میں فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالے گئے ایک جلوس پراسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد سے ایک کم عمربچہ زخمی ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں قابض فوج نے ایک گیارہ سالہ بچہ عبادہ البریجیہ اسرائیلی فوجیوں کے تشدد سے شدید زخمی ہو گیا۔
اس مظاہرے میں شریک شہریوں نے بھی اسرائیلی حکومت کی فلسطینی اسیران کے حوالے سے جاری پالیسی کی شدید مذمت کی اور قیدیوں کے حقوق کی عدم فراہمی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے تعبیر کیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

