سینکڑوں فلسطینیوں نے اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتالی قیدیوں کی حمایت میں ایک ریلی کا انعقاد کیا۔ یہ ریلی جنین کے جنوب میں قصبے یعبد میں نکالی گئی۔ اس ریلی کا انعقاد یعبد سے تعلق رکھنے والے بھوک ہڑتالی قیدیوں طارق قعدان اور جعفر عزالدین کی ہسپتال منتقلی کے بعد کیا گیا۔
طارق قعدان کے بھائی معاویہ کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور ان کے دوست جعفر عزالدین کو طبیعت خرابی کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بھوک ہڑتال کی وجہ سے دونوں کی طبیعت بہت تیزی سے خراب ہو گئی تھی۔
ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں نے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ وہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ خلاف اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ایک دوسری پیش رفت میں بیت اللحم کے جنوب میں الدھیشہ مہاجر کیمپ کے قریب شہداء کی یادگار پر اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک تقریری مقابلہ کروایا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے بیت اللحم میں نمائندے کے مطابق قیدیوں کے اہل خانہ اور اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے رہنماوں نے پروگرام میں شرکت کی۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ممبر پارلیمنٹ محمود الخطیب نے قیدیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم خاص طور پر عرفات جرادات کی شہادت کے بعد بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر تنقید کی۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض حکام کے ساتھ سیکیورٹی کا تعاون ختم کرے نہ کہ فلسطینی نوجوانوں کو دبانے کی کوشش کرے جو کہ جرادات کی شہادت کے بعد قابض افواج کے خلاف ان کے سامنے بغاوت کر رہے تھے۔
فلسطینی وزیر برائے اسیران عطااللہ ابو صابح نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کا معاملہ فلسطینی، عرب اور مسلم اقوام کا مرکزی مسئلہ رہے گا۔
ابو الصابح نے اپنا بیان بین الاقوامی لکھاریوں کے اعزاز میں ایک تقریب میں دیا۔ یہ لکھاری فلسطینی قیدیوں کے بارے میں اہنے کام کی وجہ سے منتخب کئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کا معاملہ عرب اور مسلم دنیا کے نوجوانوں کے دلوں اور ان کی تحریروں میں ہمیشہ موجود رہے گا ، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عرب اور مسلمان اسرائیلی جیلوں میں موجود اپبے بھائیوں اور بہنوں کو کبھی نہیں بھلائیں گے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
