مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’مرکز احرار‘‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 21 سالہ اسی خالد وعوض سے اس کی والدہ ایک 15 سالہ بیٹی خلود اور 9 سالہ بیٹے یوسف کے ہمراہ جیل میں پہنچی تو جیل حکام نے انہیں انتظارمیں کھڑا کر دیا۔
کئی گھنٹے انتظار کے بعد ملاقاتیوں نے صہیونی جیلروں کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران یوسف نے جیل میں داخل ہونے کی کوشش کی تو صہیونی جیلروں نے اسے پکڑ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا گیا۔
بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ صہیونی جیلروں کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں یوسف کو گہرے زخم آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم جیل میں اپنے بیٹے خالد سے ملنے گئے تھے۔ وہ پچھلے 7 ماہ سے زیرحراست ہے اور ہم اس سے ملاقات نہیں کر سکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
