(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) انتہا پسند تنظیم "یہودی قوت” کے سربراہ اور وزیر برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت سمیت غیر قانونی صیہونی ریاست کی حکومت سے مستعفی ہوں جائیں گے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ "معاہدے کی منظوری، سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، اور جنگی کامیابیوں سے دستبرداری ناقابل قبول ہے۔ یہ معاہدہ حماس کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے، اور اسی بنیاد پر ہم حکومت سے علیحدگی اختیار کریں گے۔”
بن گویر نے وزیر خزانہ بتسلئیل سموتریچ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ حکومت سے الگ ہو جائیں۔ تاہم، سموتریچ نے صرف معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
غیر قانونی صیہونی ریاست کی حکومت نے 8 گھنٹے طویل بحث کے بعد اس معاہدے کو 24 کے مقابلے میں 8 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس معاہدے میں تین مراحل شامل ہیں، جن میں ہر مرحلہ 42 دنوں پر مشتمل ہوگا، اور اس کا آغاز اتوار سے ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی حمایت سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی میں اب تک 1,57,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید یا زخمی کر چکی ہے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس تباہ کن صورتحال میں عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گالانٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
