فلسطینی مجلس قانون ساز کے دو اراکین احمد عطون اور سمیرہ حلایقہ نے فلسطینی اتھارٹی کے جیلوں میں قید سیاسی اسیران کے مصائب اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کی تفتیشی مراکز
میں طلبیاں فوری ختم کی جائیں۔ القدس کے رکن پارلیمان عطون اور الخلیل کی پارلیمان حلایقہ نے سیاسی گرفتاریوں کو حماس اور فتح کے مابین ایک سال قبل ہونے والے مفاہمتی معاہدے کے منافی قرار دیا۔ احمد عطون نے کہا کہ فلسطینی قوم اور فلسطینی سرزمین کی اتحاد کے لیے فلسطینی تنظیموں کے مابین مفاہمت ضروری ہے۔ ساری فلسطینی قوم اور جماعتوں کو ملکر مقبوضہ بیت المقدس اور قبلہ اول اور دیگر مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا، فلسطینی شہروں کو یہودیانے کی کارروائیوں اور قوم کے خلاف اسرائیلی سازشیں داخلی انتشار کی صورت میں ختم نہیں کی جاسکتیں۔
فلسطینی رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسے مثبت ماحول کی ضرورت ہے جس میں سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے، شہریوں کو پوچھ گچھ کے لیے حاضری کے نوٹسز ملنا بند ہوں اور قومی مفادات کی خاطر تمام جماعتیں حقیقی شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھیں جس میں اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کا کوئی کردار نہ ہو۔ دوسری جانب قاھرہ پہنچنے والی دوسری فلسطینی رکن پارلیمان سمیرہ حلایقہ کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں بنیادی آزادیوں کی فراہمی بالخصوص اتھارٹی کے عقوبت خانوں میں محض سیاسی وابستگیوں کی پاداش میں قید کاٹنے والوں کی رہائی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اسیران کو جیلوں میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
سمیرہ حلایقہ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بنیادی آزادیوں کی فراہمی، نوکریوں سے برخاست کیے گئے افراد کی بحالی، اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی کارروائیوں کا حقیقی خاتمہ اور پابندی لگائی گئی مختلف جماعتوں کو دوبارہ فعال کرنا انتخابات اور فلسطینی قومی حکومت کے قیام سے زیادہ اہم ہے۔ اس موقع پر حلایقہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بیر زیت یونیورسٹی میں احتجاجی دھرنا دینے والے یونیورسٹی طلبہ کی مشکلات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی مفاہمت کی تمام شقوں پر من و عن عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب تک قاھرہ میں حماس اور فتح کے رہنماؤں کی متعدد ملاقاتوں کے باوجود عملی طور پر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

