بلغاریہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعہ کے روز فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے پارلیمانی وفد کی قیام گاہ پر چھاپہ مارا۔
یاد رہے حماس کا تین رکنی وفد سرکاری دعوت پر ان دنوں بلغاریہ کا دورہ کر رہا ہے۔ ایک بیان میں حماس نے بتایا کہ ہمارے وفد کا دورہ بلغاریہ ختم ہونے میں تین دن باقی تھے کہ حکام نے انہیں صہیونی دباؤ کی وجہ سے فورا ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔
حماس کے پارلیمانی گروپ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وفد بلغاریہ حکومت کی سرکاری دعوت پر تھا۔ اپنے قیام کے دوران انہوں نے بلغاریہ کی متعدد حکومتی اور رائے عامہ کی نمائندہ شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
وفد کے سربراہ اور حماس کے رکن پارلیمان ڈاکٹر صلاح البردویل نے بتایا کہ بلغارین پولیس نے اس ہوٹل پر چھاپہ مارا جہاں حماس کا وفد مقیم تھا۔ اس موقع پر پولیس کی خصوصی گاڑیوں کے ذریعے وفد کے ارکان کو صوفیا ہوائی اڈے ملک بدری کے لئے لیجایا گیا۔
انہوں نے بلغاریہ پولیس کے اپنے ہوٹل پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دورے کے لئے وزیر بلغارین حکومت نے سرکاری طور پر جاری کیا تھا۔ انہوں نے دورے میں متعدد سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ صلاح البردویل نے کہا کہ یورپی بائیکاٹ کے علی الرغم بلغاریہ میں ہمارے استقبال حماس کی واضح کامیابی تھی جس پر صہیونی حلقوں کو کافی زیادہ تشویش تھی۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے وفد کو بلغاریہ سے نکالنے کا فیصلہ انتہائی جانبدار سیاسی اقدام ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیلی دباؤ کے تحت کیا گیا ہے اور اسرائیلی نژاد بلغارین وزیر خارجہ کے ذریعے نافذ کرایا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
