فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتے کے روز ہوئے بلدیاتی انتخابات میں جہاں صدر محمود عباس کی جماعت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں ووٹوں کی گنتی کے دوران یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ
شہریوں کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں پرفتح کے امیدواروں کی حمایت کے بجائے ان کےخلاف استہزائیہ، طنزیہ اور تنقیدی تبصرے تحریر کیے گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق فلسطین کے مختلف شہروں سے گنتی کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پررکھے گئے بیلٹ بکسوں سے ایسے سیکڑوں ووٹ ملے ہیں جن پرفتح کے امیدواروں کی حمایت کے بجائے ان کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں نے مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات کے دوران شہریوں کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں پرتبصروں کے بارے میں جان کاری کی کوشش کی ہے۔ رام اللہ میں ایک مرکزی پولنگ اسٹیشن کے پولنگ افسرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ ’’شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں کسی امیدوار کی حمایت کے بجائے ویسے ہی بیلٹ پیپر بیلٹ بکسوں میں ڈالے گئے ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میںا یسے ووٹ بھی سامنے آئے ہیں جن پرتنقیدی تبصرے تحریرکیے گئے ہیں۔
مثال کےطور پر ایک بیلٹ پیپر پر لکھا ہے کہ’’آپ کےامیدوارووٹ کے نہیں بلکہ جوتوں کے حق دارہیں‘‘۔ ایک دوسرے بیلٹ پیپرمیں لکھا ہے کہ’’جہنم میںجاؤ تم۔ ہم تمہیں ووٹ نہیں دے سکتے‘‘۔ ایک بیلٹ پیپرمیں یہ الفاظ درج ہیں۔’’آپ اسرائیل، امریکا اور یورپ کے ایجنٹ ہیں، یہ ملک آپ لوگوں کوہمارے ذریعے سےفلسطینی قوم کی گردنوں پرمسلط کرنا چاہتے ہیں تم ووٹ کے حق دار نہیں ہو۔
ایک دوسرے پولنگ اسٹیشن کے عہیدارنے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران رام اللہ اتھارٹی کے زیرکنٹرول سیکیورٹٰ فورسز کےخلاف سخت نوعیت کی تنقید سامنے آئی ہے۔ بڑی تعداد میں شہریوں نے کسی امیدوار کی نشاندہی کے بغیرسادہ پیپر ہی بکسوں میں ڈال دیے ہیں اور بعض میں فتح کے امیدواروں اور سیکیورٹی عہدیداروں کےخلاف تند وتیز الفاظ پرمبنی طنزیہ جملے تحریر کیے گئے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
