مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "مرکز العودہ” کے ڈائریکٹر ماجد الزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ”فیس بک” پر پوسٹ ایک بیان میں بتایا کہ برطانوی ڈپٹی اسپیکر نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی اکنامک اور سوشل کونسلز سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کےحق واپسی کے لیے سرگرم ادارے کو اپنے ہاں رکنیت دیں۔ کیونکہ یہ تنظیم فلسطینیوں کے مسلمہ حق واپسی کے لیے طویل عرصے سے عالمی سطح پرامن مساعی جاری رکھے ہوئے ہے۔
برطانوی ڈپٹی اسپیکر بانا ڈیمولیس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اجلاسوں میں "مرکز برائے حق واپسی”[مرکزالعودہ] کی رکنیت کی حمایت کی جاسکتی ہے تاہم اس موقع پر اسرائیل رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "مرکزالعودہ” جیسی غیر سرکاری تنظیم کو اقوام متحدہ کے اداروں میں ایک مشاورتی ادارے کے طورپر تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اس وقت مسئلہ فلسطین پوری دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کے لیے کام کرنے والے اداروں کو سپورٹ کرنا اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں "مرکزالعودہ” کی جانب سے اقوام متحدہ میں شمولیت کے لیے ایک یاداشت تیار کرائی گئی ہے جس میں برطانیہ، یورپی ممالک آئرلینڈ، سویڈن اور اسکاٹ لینڈ سمیت کئی دوسرے ملکوں کے 115 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط ثبت ہیں۔ انہوں نے مرکز العودہ کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی مہم کی حمایت کی ہے۔
اس سے قبل رواں سال جون میں اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی مرکز برائے واپسی کو تسلیم کرچکی ہے۔ کمیٹی میں ہونے والی رائے شماری میں کل 19 میں سے 12 ارکان نے "مرکزالعودہ” کی حمایت کی تھی۔ اسرائیل ، امریکا اور یوروگوائے نے مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
