• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

برطانوی پارلیمان میں فلسطین کے حق میں علامتی قراردار منظور

منگل 14-10-2014
in فلسطین
0
plf approved
0
SHARES
0
VIEWS

برطانیہ کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی دارالعوام میں سوموار کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنےکے حق میں ایک تحریک بھاری اکثرت سے منظور کر لی گئی۔

فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی اس تحریک کے حق میں دو سو چوہتر ووٹ جبکہ اس کے مخالفت میں صرف بارہ ووٹ ڈالے گئے۔ برطانوی دارالعوام میں کی جانے والی بحث ٹیلی وژن پر کئی ملکوں میں دیکھی گئی۔ کیمرون حکومت نے وزراء سے کہہ رکھا تھا کہ وہ پارلیمانی بحث میں شرکت کرنے سے اجتناب کریں۔ یورپ بھر میں برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کردہ اس قرارداد کی اہمیت سویڈن کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد زیادہ اہم ہو گئی تھی۔ اسرائیل نے سویڈش حکومت کے فیصلے پر خاصی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

پیر کو رات گئے ہاؤس آف کامنز میں منظور کی گئی یہ قرارداد علامتی نوعیت کی ہے کیونکہ برطانوی حکومت اس پر عملدرآمد کی پابند نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ قرارداد ممکنہ طور پر ملکی حکومت کی فلسطین سے متعلق پالیسی میں کسی تبدیلی کا سبب نہیں بنے گی۔ اس قرارداد میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کو بھی مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دو ریاستی حل کی بنیاد پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت نے فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اُس کا موقف ہے کہ مستقبل میں اِس موقف میں تبدیلی کسی وقت بھی لائی جا سکتی ہے۔

بحث کا آغاز دارالعوام میں مرکزی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رکن گراہم مورس نے کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں خطے میں نوآبادیاتی نظام رکھنے کی وجہ سے اِس تنازعے میں برطانیہ پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فعال کردار ادا کرے۔ مورس کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کا مذاکراتی عمل بند گلی میں داخل ہو چکا ہے اور اس طرح پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو توڑ کر ہی آگے بڑھنے کا راستہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ قرارداد بھی بیک بینچر رکن پارلیمان گراہم مورِس کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ برطانوی پارلیمانی قواعد کے مطابق پارلیمنٹ کے بیک بینچرز کی جانب سے پیش کردہ کسی بھی قرارداد پر حکومت عمل کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ برٹش پارلیمنٹ میں بیک بینچر اُس رکن کو کہتے ہیں جس کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہ ہو اور نہ ہی اپوزیشن جماعت نے اُسے اپنی شیڈو حکومت کا حصہ بنایا ہو۔ ایسے کسی رکن کی پیش کردہ قرارداد پر اس کی منظوری کے بعد عمل کرنا حکومت پر لازم نہیں ہوتا۔

کیمرون حکومت مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حامی ہے لیکن اُس کے اراکین اور حامی وزراء کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں شریک ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ قرارداد پر بحث کے آغاز پر اکثریتی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون اور لیبر پارٹی کے لیڈر ایڈ ملی بینڈ ایوانِ زیریں میں موجود نہیں تھے۔ برطانوی دارالعوام کی نشستوں کی تعداد 650 ہے اور پیش کردہ قرارداد کے حق میں نصف سے بھی کم اراکین نے اپنا ووٹ ڈالا لیکن اِس قرارداد کو کئی دوسری برطانوی پارٹیوں کے اراکین کی حمایت ضرور حاصل ہوئی۔

حکمران ٹوری پارٹی کے 39 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اپوزیشن لیبر پارٹی کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 192 رہی۔ ان میں پارٹی لیڈر ایڈ ملی بینڈ کا ووٹ بھی شامل تھا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.