یورپی ملک سویڈن کی جانب سے فلسطینی ریاست کی حمایت کے اعلان کے بعد برطانیہ میں بھی آزاد فلسطینی ریاست کی سیاسی حمایت کے حصول کی مساعی تیز ہو گئی ہیں۔
برطانوی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت "لیبر پارٹی” کی جانب سے 13 اکتوبر کو دارالعوام میں فلسطینی ریاست کی حمایت میں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق دارالعوام میں رائے شماری کا بل لیبر پارٹی کے "فرینڈزآف فلسطین گروپ” کے چیئرمین گراہم موریس کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور انہیں اس اقدام میں ایوان کے کئی دوسرے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہے۔
تیرہ اکتوبر کو دارالعوام کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ قریبا چھ گھنٹے کو محیط اس اجلاس میں آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت میں ایک بل پیش کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ یہ بل کثرت رائے سے منظور کر لیا جائے گا۔
برطانوی قانون کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ نہیں بلکہ حکومت کے پاس ہے تاہم پارلیمان کے کسی ایوان میں ہونے والی رائے شماری حکومت کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پرمجبور کر سکتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست کی حمایت میں آواز بلند ہوتی ہے اور حکومت اس پر عمل درآمد نہیں کرتی تو اس سے حکومت کے لیے مشکلات ضرور پیدا ہو سکتی ہیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل یورپی یونین کے اہم ممبر ملک سویڈن نے عالمی قراردادوں کی روشنی میں سنہ 1967ء کے مقبوضہ علاقوں پر مشتمل آزاد اور مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ دنیا بھر کی 80 فی صد آبادی کی نمائندگی کرنے والے 138 ملکوں نے فلسطینی ریاست کی حمایت کر رکھی ہے۔ ان میں برازیل، چلی، جنوبی افریقا، روس، ویٹکن، ارجناٹن، پاکستان، بھارت اور چین جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
