مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز دارالعوام کے اجلاس کی صدارت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نما لارڈ اسٹیل نے کی۔ انہوں نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو فلسطینی راکٹوں کا خطرہ نہیں ہونا چاہیے لیکن صہیونی ریاست بھی بغیر وجہ کے فلسطینیوں پر جنگ مسلط نہ کرے۔ مسٹر اسٹیل کا کہنا تھا کہ سنہ 2009ء اور 2014ء میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جو جنگ مسلط کی وہ فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کا رد عمل نہیں تھی۔
فلسطینی ریاست کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک دوسرے رکن سینٹ لارڈ کوبیہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ برطانیہ ان علاقوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلےجن پر اسرائیل نے بزور قبضہ جما رکھا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قبرصی نژاد رکن مرال اجہ نے برطانوی حکومت سے فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں بعض ارکان نے فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس نظریے کے حامیوں میں لارڈ بانیک سر فہرست رہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نہیں سمجھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔ پہلے فریقین کو آپس میں کوئی معاہدہ کرلینا چاہیے جس کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ برطانوی دارالعوام میں گذشتہ برس اکتوبر میں بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد کی حمایت میں 274 ارکان نے ووٹ ڈالے تھے۔
دارالعوام میں فلسطینی ریاست کی حمایت کے مطالبے کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر اس حوالے سے فریقین پہلے آپس میں بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے کوئی راستہ تلاش کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل فلسطین۔ اسرائیل قیادت مل بیٹھ کر نکالے اور یہ حل بہرصورت میں دو الگ الگ ریاستوں ہی کی شکل میں ہونا چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
