اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے صہیونی سکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ”باب الشمس” کے علاقے میں موجود تمام فلسطینی مظاہرین کو فوری اس علاقے سے نکال دیا جائے۔
القدس اور یہودی بستی معالی ادومیم کے درمیان اس علاقے میں خیمے لگا کر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو نکالنے کے بارے میں سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کو ایک ہفتے تک خیمے لگانے کی اجازت دی تھی۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر اسرائیلی فوج نے علاقے کی جانب جانے والے راستے بند کردیے ہیں تاکہ یہاں پر مزید کوئی فلسطینی نا جا سکے۔ خیال رہے کہ ”ای ۔ ون” کے نام سے معروف اس علاقے میں اسرائیل نے نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے خلاف فلسطینیوں نے اس علاقے میں خیمے لگاکر احتجاج شروع کردیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو علی الصبح ہی علاقے کو ممنوعہ فوجی علاقہ کہ کر بند کردیا، اس طرف جانے والی گاڑیوں اور پیدل افراد کو روک دیا گیا۔ باب الشمس اورالزعیم کے دیہاتوں کے راستوں پر اسرائیلی فوج کے دستے مسلسل گشت کر رہے ہیں۔
تاہم باب الشمس کے نام سے بسائی گئی اس خیمہ بستی میں موجود رضا کار بھرپور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
