اسرائیل کی ایک عدالت میں ایک اور فلسطینی خاتون اسیرہ آمانی الخندقجی بھی بھوک ہڑتالی اسیران کے قافلے میں شامل ہو گئی ہے۔
ستائیس سالہ الخندقجی اسرائیلی جیل عسقلان میں زیرحراست ہیں اور انہیں بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اسیرہ نے بھوک ہڑتال کا اعلان اپنی انتظامی تحویل میں رکھے جانےکی سزا کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسیرہ امانی الخندقنجی ایک ایسے وقت میں ہڑتالی اسیران کے قافلے میں شامل ہوئی ہیں جب دوسری جانب صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل درجنوں فلسطینی کئی ہفتوں سے جیل میں بند ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی جیل میں پابند سلاسل ایک دوسری فلسطینی اسیرہ ھنا شلبی کی بھوک ہڑتال کو آج انتالیس دن گذر چکے ہیں۔ جیل میں اس کی حالت نہایت خراب ہونے کےباوجود اسرائیلی انتظامیہ نے اس کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم”ضمیر” کےایک نمائندے فراس صباح نے جمعرات کے روز عسقلان جیل کا دورہ کیا۔ فراس نے بتایا کہ اس نے اسیرہ امانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اس نے بتایا کہ جب سے اسرائیلی انتظامیہ نے اسے انتظامی تحویل میں منتقل کیا ہے، وہ اس وقت سے احتجاجا بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔
امانی نے انسانی حقوق کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیلی عدالت نے اس کی رہائی کا بھی حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود صہیونی انتظامیہ نے اس کی رہائی سے انکار کر دیا ہے۔
امانی نے بتایا کہ اسے منگل کے روز صہیونی فوجیوں نے نابلس اس کے گھر سے حراست میں لیا۔ گرفتاری کے بعد اسے حوارہ تفتیشی مرکز میں رکھا گیا اور وہاں سے اب عسقلان جیل میں لائے جانے کے بعد انتظامی تحویل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نے اسرائیلی فوجیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا قصور بتائیں اور واضح کریں کہ انہوں نے اسے کس جرم کی سزامیں انتظامی حراست میں رکھا ہے۔
خیال رہے کہ اسیرہ امانی الخندقجی کو سنہ 2004ء میں بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر حماس سے تعلق کے الزام میں تین مرتبہ عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی۔ گذشتہ برس حماس اور اسرائٰیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے میں امانی کو بھی رہائی ملی تھی۔

