مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں ایکسویٹر کے ذریعے اسرائیلی بس پر حملہ کر کے دو اسرائیلیوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد اسرائیلی پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 23 سالہ محمد نایف کی نماز جنازہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انتہائی سخت سیکیورٹی میں ادا کی گئی۔
جنازے کے وقت القدس میں جبل المکبر قبرستان کو خفیہ والوں اور پولیس کی بھاری نفری کے گھیر رکھا تھا تاکہ شہید کو الوداع کہنے بڑی تعداد میں عرب فلسطینی شریک نہ ہو سکیں۔ شہید کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ قابض حکام نے انہیں بتایا کہ وہ محمد نایف جعابیص کا جسد خاکی آخری رسومات کے لئے نصف شب اس شرط پر خاندان کے حوالے کرنے کو تیار ہیں کہ جنازے میں صرف شہید کے قریبی عزیر شریک ہوں گے اور اسے میڈیا کی چکا چوند سے بھی دور رکھا جائے گا۔ نہ ہی شہید کا جنازہ روایتی دھوم دھام سے اٹھایا جائے گا۔یاد رہے کہ محمد جعابیص مشرقی بیت المقدس میں ایکسویڑ ڈرائیور تھا اور اس نے الشیخ جراح کالونی میں اپنا ایکسویٹر اسرائیل بس سے ٹکرا دیا تھا جس میں دو اسرائیلی مارے گئے۔ موقع پر موجود اسرائیلی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شدید فائرنگ کر کے جابیص کو گذشتہ پیر کو شہید کر دیا تھا اور نعش قبضے میں لے لی تھی۔
