اسرائیل میں آباد کیے گئے ایتھوپیا کے سیاہ فام یہودی آباد کاروں نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے ان کے قبیلے کے ایک شخص کو رہا نہ کرایا تو وہ حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کریں گے۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 1 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایتھوپیائی یہودیوں کے بیرون ملک موجود لوگوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پرایک یوتھ فورم تشکیل دے دیا ہے جس کے پلیٹ فارم سےاسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے ابراہام منجسٹو کی رہائی کی مہم چلائی جائے گی۔
آن لائن تشکیل پانے والے اس فورم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں حکومت کی طرف سے "ابراہام منجسٹو” کی رہائی کی خوش خبری سننے کا انتظار ہے۔ اگر حکومت منجسٹو کو رہا کرنے میں ناکام رہی تو ہم سب حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ایتھوپیائی یہودیوں کے نمائندہ فورم کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل اسرائیلی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف ہمارا احتجاج اس احتجاج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں کو مستقبل میں ہونے جا رہا ہے۔ اگر وزیراعظم نیتن یاھو نے ہمارے قبیلے کے ابراہام منجسٹو کو غزہ کی پٹی میں حماس کی قید سے آزاد نہ کرایا تو حکومت کے خلاف بغاوت کریں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم کئی روز سے اس انتظار میں ہیں کہ وزیراعظم ابراہام کی رہائی کے حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کریں گے مگر ابھی تک ان کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اگر ٹال مٹول کا سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل کے تمام شہروں میں ایتھوپیائی باشندے احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم پچھلے 10 ماہ سے وزیردفاع، وزیراعظم اور دوسرے عہدیداروں سے مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے ہمارے قبیلے کے کارکن کو رہا کرائیں مگر ہماری شنوائی نہیں کی گئی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
