مغربی کنارے میں تحریک فتح کے زیر انتظام فلسطینی اتھارٹی کی فورسز نے سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ ترک نہیں کیا، تاہم سیاسی مفاہمت کی مثبت فضاؤں کو تاراج کرنے والی اتھارٹی کی پری وینٹو فورسز کو اس وقت شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑ گیا جب کہ اس نے ایک گھر میں گھس کر خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور اہل خانہ اور علاقے کے مکینوں نے شدید مزاحمت کر کے غنڈہ نما فورسز کو الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے گاؤں بنی زید کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ اتھارٹی کے اہلکاروں نے حماس سے تعلق کی پاداش میں پہلے سے گرفتار فلسطینی ابراھیم سنیف کے گھر پر حملہ کیا اور اہل خانہ سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ طویل تفتیش کے بعد عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے ابراھیم سنیف کو گرفتار کرنا چاہا مگر اہل خانہ نے مزاحمت شروع کر دی، اسی دوران محلہ کے لوگ سخت طیش کی حالت میں گھر میں گھس آئے اور اتھارٹی کے سکیورٹی اہلکاروں کو نامراد واپس لوٹنا پڑا۔ ذرائع نے بتایا کہ اتھارٹی فورسز نے شقبا، بدرس اور رنتیس کے علاقوں پر حملہ کیا اور کئی گھنٹوں تک گھروں میں گھس کر تفصیلی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی سرپرست تحریک فتح اور فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت حماس کے مابین حال ہی میں قاھرہ میں اختلافات ختم کر کے متحدہ فلسطینی حکومت بنانے کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی گزشتہ ڈیڑھ سال سے مفاہمتی معاہدہ طے پاجانے کے باوجود مغربی کنارے میں حماس کے حامیوں کو گرفتار یاں جاری رکھیں جو حقیقی مفاہمت کے راستے میں بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
