فلسطینی قومی مفاہمتی ادارے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ برغوثی نے کہا ہے کہ قابض حکام نے اوسلو معاہدے کو فائدہ اٹاتے ہوئے یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کو بڑھا دیا ہے۔
مصطفیٰ برغوثی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اوسلو معاہدے سے قبل یہودی آبادکاروں کی تعداد 160٫000 تھی جبکہ اب یہودی آبادکاروں کی تعداد 650٫000 ہے۔ اسی طرح مغربی کنارے کو تین مختلف علاقوں میں بانٹ دیا گیا جبکہ بیت المقدس کو صیہونی رنگ میں ڈھالنے کی سرگرمیاں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ صورتحال نے بھی یہودی بستیوں کی تعمیر بڑھانے میں مدد کی ہے جبکہ اسی دوران ایک دیوار فاصل بھی تعمیر کردی گئی ہے جس نے مغربی کنارے کی زمین کے بڑے حصے کو قبضے میں لے لیا ہے جبکہ بیت المقدس کو تنہا کردیا ہے۔
مصطفیٰ نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا کہ وہ ابھی بھی مذاکرات کی آڑ میں یہودی بستیوں میں توسیع کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
