فلسطین میں انسانی حقوق کی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سنہ 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان ناروے کے شہر اوسلو میں طے پائے معاہدے نے مقبوضہ شہروں میں یہودی توسیع پسندی اور آباد کاری میں
غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔ نیز اس معاہدے کے بعد اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "فلسطین نیشنل پروگریسیو موومنٹ” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1993ء میں اوسلو معاہدے پر دستخط کے وقت فلسطینی شہروں میں یہودی آباد کاروں کی تعداد 01 لاکھ 60 ہزار تھی جو اب کئی گنا بڑھ کر 06 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوسلو معاہدہ مقبوضہ مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا باعث بنا ہے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس کو یہودیانے کی سرگرمیاں بھی اوسلو معاہدے کے بعد ہی تیز ہوئی ہیں۔
فلسطینی قومی اقدام پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا ہے کہ اوسلو معاہدہ جسے فلسطینیوں کی آزادی کی پہلی اینٹ سمجھا جا رہا تھا فلسطینیوں کو مزید غلام بنانے کا باعث بنا ہے۔ اسرائیل نے اس معاہدے کے بعد مغربی کنارے کے 25 کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر کے وہاں یہودی آبادیاں قائم کی ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی سرگرمیاں بڑھیں اور مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے حملوں میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا۔
البرغوثی کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے اوسلو معاہدے کے بعد مقبوضہ عرب شہروں میں یہودی آباد کاری پر خصوصی توجہ دی گئی جس کے نتیجے میں اس معاہدے کے برعکس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
