اسرائیل کی صحرائے ریمنڈ جیل میں فلسطینی اسیران نے ساتھی اسیر 65 سالہ میسرہ ابو حمدیہ کی جان بچانے کے لئے اپیل کی ہے۔ میسرہ گزشتہ کئی دنوں سے بیمار ہیں۔
اسیران کی بہبود کے لئے کام کرنے والی واعد سوسائٹی کو بھیجے گئے خط میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی کے لئے کام کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ میسرہ کی رہائی کے لئے فوری طور پر مداخلت کریں۔ میسرہ گلے کے کینسر جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں۔
واعد نے خدشتہ ظاہر کیا ہے کہ اگر میسرہ کو بروقت طبی امداد فراہم نہ کی گئی تو وہ عرفات جرادات کی طرح جیل ہی میں انتقال کر جائیں گے۔
اسرائیلی جیلوں میں تقریبا 4700 فلسطینی قید ہیں، جن میں سے سینکڑوں خطرناک اور دائمی امراض کا شکار ہیں۔ ایک سو پچاس اسیر ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہے۔
قابض اسرائیلی حکام نے ابو حمدیہ کو کینسر کی تشخیص کے باوجود رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کینسر کی وجہ سے ابو حمدیہ کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ یہ انکار اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے خلاف طبی لاپرواہی کی پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی نے ایک بیان جاری کیا کہ ابوحمدیہ کو ایک دفعہ سے زیادہ سوروکا ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے۔ ابو حمدیہ بلند فشار خون اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہیں۔
ابو حمدیہ کو 11 سال قبل حراست میں لیا گیا تھا اور عوفر کی فوجی عدالت نے انہیں قابض افواج کے خلاف مزاحمت پر عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔ انہیں ساٹھ کی دہائی میں تنظیم فتح میں فعال ہونے کی وجہ سے چار مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ 1978 میں اردن بیدخل کئے جانے والوں میں بھی شامل تھے۔
ان کی ہمشیرہ اعتدال ابو حمدیہ کے مطابق ان کے بھائی 1998 میں اپنے وطن لوٹ آئے تھے مگر قابض افواج نے انہیں 2002 میں دوبارہ گرفتار کرلیا تھا۔ ابو حمدیہ کو خاندان والوں سے ملاقات سے بھی محروم رکھا گیا ہے مگر تمام مجبوریوں اور صحت کی خرابی کے باوجود مضبوط ارادوں اور بلند ہمت کے حامل ہیں۔
اعتدال ابو حمدیہ نے مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان کے بھائی کی صحت کی وجہ سے ان کی رہائی کے لئے مداخلت کریں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
