اقوام متحدہ کی فلسطین کے مہاجرین کی مدد کے لئے قائم ذیلی تنظیم الانروا نے اپنے مرکزی دفتر سے سکیورٹی کو غزہ کے مقامی دفتر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ اقدام مرکزی دفتر کو بند کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔
مقامی سول سرونٹس کی یونین کے ایک عہدیدار نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا ہے کہ انروا نے پہلے اطلاع دیئے بغیر ہی مرکزی دفتر کے 12 سیکیورٹی سٹاف ممبرز کو مقامی دفتر میں منتقل کردیا ہے۔
عہدیدار کے مطابق یونین اس فیصلے سے حیران ہے کیوںکہ انروا نے پچھلے سال اپریل میں تبادلوں کے بعد سے تبادلوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔
ان کے مطابق انروا نے پچھلے سال فنانس کے محکمے میں کام کرنے والے چھ اہم ملازموں کو مرکزی دفتر سے منتقل کردیا تھا۔
یونین کے بہت سے ممبرز نے اتوار کے روز انروا کے دفتر کے باہر منعقدہ ایک ریلی میں شرکت کی تھی کہ جس میں اس طرح کے تبادلوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے مہاجروں کے بیورو نے اس فیصلے کو انروا کی ریلیف فراہم کرنے کی سرگرمیوں کا دائرہ چھوٹا کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
بیورو کے سربراہ عصام عدوام نے ایک بیان میں مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ انروا کے مرکزی دفتر سے ملازمین کے تبادلے غزہ کے مرکزی دفتر کو بند کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں اور اس کے بہت سے ملازموں کو اردن منتقل کیا جا رہا ہے۔
انروا نے غزہ کے دفاتر بند کرنے کے کسی بھی ارادے کی تردید کی۔انروا کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے کہا کہ یہ تبادلوں کا عمل انتظامی ہے اور اس کا غزہ میں دفاتر بند کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
