رپورٹ کے مطابق حال ہی میں مقامی فلسطینی آبادی کو معلوم ہوا کہ صہیونی حکومت خفیہ طورپر اندرون فلسطین کے تاریخی علاقوں ’’نمرین‘‘ اور ’’حطین‘‘ کی اراضی پرایک نئی یہودی کالونی کے قیام کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ فلسطینیوں نے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کی تو خبردرست ثابت ہوئی۔
خیال رہے کہ ’’حطین‘‘ مقبوضہ فلسطین کا وہ اندرونی علاقہ ہے جو تاریخی اعتبار سے ایک بڑی جنگ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ معروف مسلمان سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے اس علاقے میں صلیبیوں کے خلاف جنگ لڑی تھی جسے معرکہ حطین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس علاقے میں درز یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے ایک نئی کالونی کے قیام کی سازشیں شروع کی ہیں۔ اندرون فلسطین کے فلسطینی مہاجرین کی ایک تنظیم کے ترجمان انجینیر سلیمان فحماوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے سنہ 1948 ء میں حطین اور آس پاس کی تمام بسیتوں کو تباہ وبرباد کردیا تھا اور یہاں رہنے والے فلسطینیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ کچھ لوگ بعد میں واپس آئے ہیں مگر اسرائیلی حکومت انہیں وہاں سے دوبارہ بے دخل کرکے وہاں یہودیوں کے لیے کالونی کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی کسی صورت میں اس علاقے میں یہودی کالونی نہیں بننے دیں گے۔ فلسطینی آبادی نے کالونی کی ڈٹ کرمخالفت شروع کی ہے۔ ہم اپنی اراضی کو یہودیوں کو استعمال کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے۔
