یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں مسجد اقصٰی کی بے حرمتی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کےمطابق جمعرات کو40 یہودی آباد کاروں اور انٹیلی جنس حکام نے مسجد اقصٰی کے مراکشی دروازے سے پولیس کی حفاظتی چھتری میں دھاوا بولا اور دیر تک مقدس مقام کے اندر گھومتے اور غل غپاڑہ کرتے رہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کے میڈیا کمیٹی کے ذمہ دار محمود ابو العطاء نے بتایا کہ جمعرات کے روز مختلف گروپوں کی شکل میں یہودی آباد کاراشتعال انگیز طریقے سے مسجد اقصٰی میں داخل ہوتے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔ ایک گروپ کی قیادت انتہا پسند یہودی ربی”یہودا کلیک” نے کی۔ یہودی آبادکاروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے بھی مسجد اقصٰی میں داخل ہوکر قبلہ اول کی حرمت کو پامال کیا۔
انتہا پسند یہودی "یہودا کلیک” نے مسجد اقصیٰ میں جمع شرپسندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جس وقت کا انتظار کر رہے تھے وہ آن پہنچا ہے۔ اب ہم نے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔ بعد ازاں یہودی آباد کار کلیک کی قیادت میں مسجد اقصیٰ کے مختلف حصوں میں چکر لگاتے رہے۔ مسجد کی مشرقی سمت میں حفظ قرآن میں مصروف طلباء کو چھیڑنے پر طلبا اور یہودیوں میں تصادم بھی ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز انتہا پسند یہودیوں کو وہاں سے محفوظ طریقے سےنکال کر لے گئے۔
ایک سوال کے جواب میں محمود ابو العطاء کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں میں ہرشعبہ زندگی کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اب معذور یہودیوں کو بھی مسجد اقصیٰ میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ میں تازہ حملے انتہا پسند فوجی جرنیل عوذی ڈیان کے اس مطالبے کا نتیجہ ہیں جس میں انہوں نے یہودی طلباء سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد ابراہیمی کی تقسیم کے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوں تاکہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کیا جا سکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
