عینی شاہدین کے مطابق مسجد اقصٰی میں موجود نمازیوں اور طلبہ نے یہودی آبادکاروں کا سامنا کیا اور انہیں وہاں سے واپس چلے جانے پر مجبور کردیا۔
الاقصٰی فائونڈیشن برائے اوقاف و ورثہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی پولیس، اسپیشل یونٹس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے مسجد کا گھیرائو کررکھا ہے اور یہودی آبادکاروں کو نکال باہر کرنے والے نمازیوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔
متعدد یہودی انتہاپسند تنظیموں نے یہودی مذہبی تہوار ھانوکا کے موقع پر یہودیوں سے مسجد اقصٰی پر دھاوا بولنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وہاں پر تلمودی رسومات ادا کی جاسکیں۔
اسلامی مسیحی کمیٹی برائے حمایت بیت المقدس و مقدس مقامات نے مسجد اقصٰی میں 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی مذمت کی۔ کمیٹی نے ایسے طرز عمل کو مسجد اقصٰی کے تقدس کی کھلی پامالی قرار دیا اور کہا کہ یہ تمام کوششیں مسجد اقصٰی کو یہودی معبد میں بدلنے کی خاطر سے ہورہی ہیں۔
