یہودی آباد کاروں نے ٹولیوں کی صورت میں مسجد اقصی پر دھاوا بولا اور مسجد کے احاطوں میں گشت کرتے رہے۔ اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کی حفاظت میں حملہ اور یہودی مسلح تھے، مسجد کے مسقوف حصے کے سامنے ان کی موجودگی سے نمازیوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔
الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کی جانب سے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یہودی آبادا کاروں کے ہمراہ متعدد یہودی مذہبی پیشوا بھی تھے، ان ربیوں کی سرکردگی میں ان یہودیوں نے مسجد اقصی کے احاطے میں تلمودی عبادات ادا کیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق یہودی ٹولیوں کے اس دھاوے کے بعد مسجد اقصی کی راہداری درسگاہوں میں شریک سیکڑوں طلبہ اور طالبات مسجد اقصی کے دفاع کے لیے اس کے احاطوں میں پھیل گئے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
