فلسطین پر قابض انتہاء پسند یہودی آباد کاروں کے ایک جتھے نے مقبوضہ مشرقی القدس کے گاؤں جبع میں ایک مسجد کو نذر آتش کردیا
ہے۔ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر اس قسم کی مزید کارروائیوں کی دھمکیوں پر مبنی عبارات بھی لکھ ڈالیں۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ نے جبع دیہی کونسل کے سربراہ عبد الکریم بشارات کے حوالے سے بتایا یہودی آباد کاروں نے علی الصح جبع کی بڑی مسجد میں داخل ہوکر آگ لگادی جس کی زد میں آکر مسجد کا بڑا حصہ متاثر ہوا۔
بشارات نے بتایا کہ مسجد میں لگی آگ کی خبر سنتے ہیں اہل علاقہ نے مسجد کی جانب دوڑ لگائی تاہم اس وقت تک مسجد کا بڑا حصہ اور اسکی متعدد کھڑکیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ لگائی گئی آگ سے مسجد کو کم از کم ستر ہزار شیکل کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے آگ لگانے کے ساتھ ساتھ مسجد کی دیوار پر عبارات بھی لکھیں۔ ان عبارتوں میں اس کارروائی کو انتقام قرار دیا گیا۔
اسرائیلی پولیس نے اقرار کیا ہے کہ حالیہ کارروائی بھی قیمت چکانے کی یہودی آباد کاروں کی مہم کا حصہ ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم کے سرگرم کارکن زکریا زبدہ نے واضح کیا کہ یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں کی مساجد اور مقدس مقامات پر حملوں کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ حملہ آوروں میں سے اب تک کسی کےخلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انتہاء پسند یہودیوں کا حوصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ مساجد کو نذر آتش کرنے میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار کیا جائے
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
