عبرانی نیوز ویب پورٹل "وللا” کی رپورٹ کے مطابق مسز لیونی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امن مذاکرات اپنے حساس ترین دور سے گزر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پچھلے ادوار میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہم صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے تو ہم بات چیت کا عمل روک دیں گے۔ اس کے لیے ہم نو ماہ کے عرصے کی تکمیل کا انتظار نہیں کریں گے۔
مسز لیونی نے کہا کہ حکومت پوری توجہ کے ساتھ مذاکرات عمل کو مانیٹر کر رہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعض ادوار سہولت اور آسانی کے ساتھ جاری رہے لیکن بعض سیشن پیچیدگی اور بدمزگی کا شکار رہے ہیں، جن میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخری دنوں میں مذاکرات کے لیے ایک ہفتے میں چار چار بار ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ ان مذاکرات میں تمام جوہری معاملات پر بات کرنے کےساتھ ساتھ رکاوٹوں کو دور کرنے پر غور کیا جاتا رہا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات گذشتہ جولائی میں امریکی نگرانی میں شروع ہوئے تھے۔ فریقین نے بات چیت کی بحالی کا فیصلہ نو ماہ کے ایک آزمائشی عرصے کے لیے کیا ہے۔ امریکا نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ نو ماہ کے مذاکرات میں ضرور ڈلیور کریں اور کسی نتیجے تک پہنچیں۔
