فلسطین کی ایک مقامی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے بعض ٹی وی آرٹسٹوں نے مسجد اقصیٰ کے قریب ایک ٹی وی ڈرامے کی عکس بندی کی ہے، جس پرفلسطینی شہریوں میں سخت اشتعال پایا جا رہا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "وادی حلوہ۔ سلوان” سینٹر نامی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ کے جنوب میں سلون کے مقام پر ایک ٹی وی ڈرامے کی عکس بندی کی گئی۔ عکس بندی میں امریک اور اسرائیل کے شوبز کے اداکار موجود تھے۔
سلوان سینٹرنے بیت المقدس میں صہیونی۔ امریکی مشترکہ ٹی وی ڈرامے کی عکس بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے جاتے ہیں جن کا مقصد بیت المقدس شہرکی اسلامی تہذیب وثقافت اور تاریخ کومسخ کرکے یہودیوں کی بالادستی ثابت کرناہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی ایک "کیسٹ” نامی فرم امریکا کے ساتھ مل امریکی ٹی وی "ایم بی سی” کے لیے ایک ڈرامہ تیار کررہی ہے جس میں فلسطین میں یہودی کالونیوں میں فلمائے گئے بعض حصے بھی پیش کیے جائیںگے۔ یہ فلم مجموعی طورپر چھ اجزاء پرمحیط ہوگی جس کے بعض حصوں کے لیے عکس بندی کرلی گئی ہے جبکہ مزید عکس بندی کی تیاریاں جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس جیسے متنازعہ علاقے میں امریکی ٹی وی کے لیے کسی پروگرام کی عکس بندی کرنا ایک جانب یہودیوں کی من گھڑت روایات کو فروغ دینے کی سازش ہے اور دوسری جانب اس طرح کے اقدامات کا مقصد اسلامی اور عرب تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کی مکروہ چال چلنا ہے۔
اس دستاویزی فلم میں بعض امریکی ماہرین آثار قدیمہ کی فلسطینیوں کے ہاتھوں ہلاکت کوبھی مناظرمیں شامل کیا جائے گا۔ اس فلم کی تیاری میں کئی ملین ڈالر کی رقم کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
