مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مہاتیر محمد نےاپنے بلاگ پر شائع ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ‘‘یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اسرائیل اپنی ایجنسیوں کے ذریعے دنیا پرحکومت کرتا ہے’’۔ انہوں نے استفسار کیا کہ امریکا کا کوئی بھی صدارتی امیدوار اپنی کامیابی کے لیے کشکول لے کر اسرائیل کیوں جاتا ہے۔ امریکا جوکہ ایک سپر پاور ہے وہاں کےصدر کے انتخاب کے لیے اسرائیل کی حمایت کا حصول کیوں ضروری ہے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ بانی جمہوریت ملک کو اپنے ہاں جمہوری صدارتی انتخابات کے لیے ایک ناجائز ریاست کی حمایت حاصل کرنا پڑتی ہے جو خود تمام جمہوری اصولوں کو تہہ تیغ کر رہا ہے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ یہ بات امریکی عوام اور دانشوروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ان کےتمام صدارتی امیدوار اپنی کامیابی کی حقیقی منظوری اسرائیل کی طرف سے منظوری کیوں خیال کرتے ہیں۔ مہاتیر محمد نے امریکی ڈیموکریٹس کے امیدوار میٹ رومنی کے حالیہ دورہ اسرائیل پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ تل ابیب اس لیے گئے تاکہ صہیونی حکومت کو یہ بتا سکیں کہ وہ صدر بن کر اسرائیل اور فلسطینیوں کےخلاف صدر اوباما سے بڑھ کر انتقامی کارروائیاں کریں گےْ۔
ملائیشین سابق صدر نے کہا کہ میٹ رومنی کے دورے کے بعد اب صدر اوباما بھی اسرائیل کا دورہ کریں گے تاکہ یہودیوں کو یہ باور کراسکیں کہ پچھلے پانچ برسوں میں وہ اسرائیل نوازی کا کھل کر مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور آئندہ انتخابات میں اپنے وفاداری کو مزید بڑھا دیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
