فلسطینی تنظیم مزاحمتی کمیٹیز کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی فلسطینی مزاحمت کار کمانڈرکو دہشت گرد قرار دینا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ تاہم امریکا کے اس فیصلے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ واشنگٹن مسئلہ فلسطین، فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق اور اصولی مطالبات میں وہ موقف رکھتا ہے جو اس کا لےپالک ا سرائیل کا ہے۔ امریکا نے زیاد النخالہ کو دہشت گرد قرار دےکر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کا حامی نہیں بلکہ صہیونی جبرو استبداد کا حامی اور اس کا سپورٹر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے صرف زیاد النخالہ کو دہشت گرد قرار نہیں دیا بلکہ تمام فلسطینی مزاحمتی قوتوںکو یہ پیغام دیا ہے کہ ان سب کے بارے میں امریکا کی مکروہ سوچ ایک جیسی ہے۔ تاہم اس فیصلے سے امریکا کا شرمناک اور مکروہ چہرہ کھل کرسامنے آگیا ہے۔
امریکا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت صہیونی پروگرام فلسطینیوں پر مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عوامی مزاجمت کمیٹیز کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد یا کوئی بھی فلسطینی تنظیم دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت امریکا اور اس کے وہ حواری ہیں جو فلسطینیوںکے قاتلوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ایک مظلوم کو دہشت گرد قرار دینے والے خود پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کے مرتکب ہو رہےہیں۔
