امریکا میں پروٹسٹنٹ عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان اسرائیل کی دفاعی امداد کے معاملے پرایک نئی محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے۔ امریکی یہودیوں نے پروٹسٹنٹ کی جانب سے اسرائیل کی فوجی امداد
میں کمی کے مطالبے کے بعد ان کی تمام تقریبات اور اجتماعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
مرکزالاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے روز امریکا میں عیسائیوں اور یہودیوں کی دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پریہودیوں نے اس وقت پروٹسٹنٹ کےخلاف احتجاجا تقریب کا بائیکاٹ کردیا، جب روشن خیال عیسائیوں کا ایک وفد کانفرنس ہال میں داخل ہوا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی یہودیوں کو پروٹسٹنٹ عیسائیوں پر اس لیے غصہ ہے کہ انہوں نے حال ہی میں کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی بحران پرقابو پانے کے لیے اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد میں کمی کا فیصلہ کرے۔ پروٹسٹنٹ کا یہ مطالبہ یہودی نواز لابی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو پایا، جس کی بناء پرانہوں نے پروٹسٹنٹ کے ہر سطح پر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں روشن خیال سمجھے جانے والے عیسائی طبقے پروٹسٹنٹ نے ماضی میں بھی کئی مرتبہ اسرائیلی فوج پر فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، چرچوں اور دیگر عبادت گاہوں پر حملوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے صہیونی فوج کی امداد بند یا محدود کرنے کے مطالبات کیے ہیں۔
