امریکا کی اقوام متحدہ کے لیے نئی خصوصی ایلچی اسرائیل نواز "سامنتھا پاور” نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کو عالمی سلامتی کونسل کی رکنیت دلوانے کا خواہاں ہے اور اس ضمن میں کوششیں بھی جاری ہیں۔
اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق مسز پاور نے امریکی سینٹ کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ” وہ اقوام متحدہ میں اہم ذمہ داری سنھبالنے کے بعد اسرائیل کو عالمی سلامتی کونسل کی رکنیت دلوانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں اسرائیل سے بڑھ کر امریکا کا کوئی وفادار دوست نہیں ہے۔ امریکا کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اس دیرینہ دوست کو بھی عالمی سطح پر بلند مقام دلوائے۔ اس سلسلے میں وہ اسرائیل کو سلامتی کونسل کا رکن ملک بنانے کی سعی جاری رکھے ہوئے ہیں”۔
اسی اخبار نے امریکا کے بعض دوسرے عہدیداروں کے بیانات بھی نقل کیے ہیں، جنہوں نے مسز سمنھتا پاور کے اسرائیل بارے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ مخالف سیاسی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکا کا دوست نہیں بن سکتا۔ یوں کہنا چاہیے کہ اسرائیل امریکا کا نہیں بلکہ امریکا اسرائیل کا وفادار دوست ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2008ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں باراک اوباما نے سمنتھا پاور کو وزارت خارجہ کی خصوصی مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ایک سال بعد انہیں اوباما کے مقربین میں دوبارہ شامل کرتے ہوئے انسانی حقوق کی چیئرپرسن برائےامریکی قومی سلامتی کونسل اور سینیئر مشیر برائے عالمی امور متعین کیا گیا۔
مسز پاور امریکا کی اقوام متحدہ میں سابق خصوصی ایلچی سوزان رائس کے ساتھ بھی کچھ عرصہ کام کر چکی ہیں۔ پاور کی اسرائیل نواز خدمات کو امریکی یہودیوں میں بڑی پذیرائی ملی ہے کیونکہ انہوں نے سوزان رائس کے ساتھ کام کرتے ہوئے اسرائیل کی آئینی حیثیت کے خلاف جاری مہمات کا بھرپور جواب دینے کی کوشش کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
