اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے”موساد” کے سابق چیف ڈانی یاٹوم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ”سی آئی اے”اسرائیلی عہدیداروں اور اہم شخصیات کے فون ٹیپ کرنے کے ساتھ ساتھ تل ابیب کی بھی جاسوسی کرتا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں مسٹریاٹوم کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوسی سے اسرائیلی عہدیداربھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ امریکا اسرائیلیوں کی بھی جاسوسی کرتا رہا ہے، تاہم انہوں نے ایسے عہدیداروں کے نام نہیں بتائے جن کی جاسوسی کی گئی ہے۔خیال رہے کہ ان دنوں امریکا کی جانب سے عالمی رہ نماؤں کے فون ٹیپ کرنے اور جاسوسی کرنے کی خبروں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حال ہی میں برطانوی اخبار”گارڈین” نے ایک سابق امریکی عہدیدار اڈورڈ سنوڈن کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکا نے 35 عالمی رہ نماؤں اور شخصیات کے ٹیلیفون ٹیپ کیے تھے۔ انہی میں جرمن چانسلر انجیلا میرکل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنا فون ٹیپ کیے جانے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔
