شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان تہور عباس حیدری کا کہنا تھا کہ یوم القدس صرف مسلمانوں کے قبلہ اول فلسطین کی آزادی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تمام مظلومینِ جہاں سے اظہار یکجہتی اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا دن ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب امام خامنہ ای کی سربراہی میں قبلہ اول القدس آزاد ہوگا، ہم امامیہ کے نوجوان خون کے آخری قطرہ تک قبلہ اول بیت المقدس کی تحریک آزادی کو زندہ رکھیں گے۔ مرکزی صدر آئی ایس او نے کہا کہ تمام محکوم قوموں کی آزادی القدس کی آزادی سے منسلک ہے، یہ دن اسلامی انقلاب کے بانی و رہبر حضرت امام خمینی ؒ کے فرمان پر پوری دنیا میں بغیر کسی تفریق کے منایا جاتا ہے، امام خمینی ؒ نے اس دن یعنی یوم القدس کو فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کا دن قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہ دن مستضعفین (مظلوم بنائے گئے) کی ظالمین کے مقابلے میں کامیابی و کامرانی کا دن ہے، اس دن دنیا کی تمام فضاؤں میں امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نا منظور کے نعرے گونج اٹھنے چاہئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امام خمینی ؒ نے دنیا کو باور کروایا کہ القدس کا مسئلہ مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے اور مسلم امہ کو اسے ہر صورت بازیاب کروانا چاہئیے، صیہونزم اسلام پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے اور اسلام کی سب سے بڑی دشمن ہے، صیہونزم کا مقصد صرف فلسطین پر قابض ہونا ہی نہیں بلکہ ایک کے بعد ایک مسلم ملک پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے، امام خمینی ؒ نے دنیا پر واضح کیا کہ ہر کسی کو یہ بات جان لینی چاہئیے کہ غاصب اسرائیل کا وجود اور اس کے جاری مظالم کا مقصد صرف اور صرف فلسطین پر قابض ہونا نہیں بلکہ یہ ایک کے بعد ایک کرکے تمام عرب مسلم ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے، جس طرح فلسطین پر کیا گیا ہے، آج فلسطین کے مظلوم لوگ اپنا دفاع خود کر رہے ہیں، لہذا یہ ہر ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطینی مظلوموں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کریں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے فلسطین کے مسئلے کو پوری امتِ مسئلہ کا حقیقی مسئلہ قرار دیا، لیکن پاکستان کے بے حس حکمران فلسطین کے مسئلہ کو اہمیت نہیں دے رہے۔ قائد اعظم کے ارشادات کی روشنی میں یوم القدس پاکستان میں سرکاری سطح پر منانا چاہیئے جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر فلسطینی مسلمانوں کی آواز بلند کرنی چاہیئے۔
