رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی خاتون مندوب ھبہ مصالحہ نے رام اللہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد اسامہ القیق کی حالت مزید تشویشناک ہوچکی ہے اور وہ کسی بھی وقت جان جان آفریں کے سپرد کرتےہوئے جام شہادت نوش کرسکتے ہیں۔
مصالحہ نے کہا کہ القیق کی بھوک ہڑتال کو جمعہ کے روز 12 فروری کو 80 دن گذرچکے ہیں۔ موجودہ حالت میں اس کی زندگی کے بچنے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔
القیق کے سینے میں تکلیف کے ساتھ ساتھ شدید بخار اور جسم کے کئی حصوں میں تکلیف ہے۔ اس کی زندگی بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اس کی بھوک ہڑتال فوری ختم کرتے ہوئے اسے بہترین صحت بخش غذا کی فراہمی اور ادویات کا استعمال شروع کرایا جائے۔
انہوں نے خدشتہ ظاہر کیا کہ القیق کی بھوک ہڑتال کے باعث کسی بھی وقت اس کے دماغ کی شریان کے پھٹنے یا حرکت قلب بند ہونے کا اندیشہ ہے۔ مریض قیدی اس قدر کم زور ہوچکا ہے کہ وہ بات تک نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ اس نے اشاروں میں بات کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔
فلسطینی انسانی حقوق کے مندوبہ نے القیق کی زندگی بچانے کے لیے اس کی رہائی کی خاطر صہیونی ریاست پردباؤ ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ المجد ٹی وی کے فلسطینی نامہ گار 33 سالہ محمد القیق کو اسرائیلی فوج نے پچھلے سال 21 نومبر کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد القیق کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈالتے ہوئے پابند سلاسل کردیا تھا۔ القیق نے اپنی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی تھی جو 81 روز سے جاری ہے۔
