اسرائیل کی آثار قدیمہ اتھارٹی نے مقبوضہ بیت المقدس کی سلوان کالونی کے مراکشی دروازے کے صحن کے قریب کھدائیوں کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ کھدائیاں مسجد اقصی کے جنوب میں ایک بڑے یہودی مرکز کی تعمیر کا پیش خیمہ ہیں۔
وادی حلوہ اسٹڈی سنٹر نے بتایا کہ نام نہاد اسرائیلی آثار قدیمہ اتھارٹی نے صیام خاندان کی اراضی میں کھدائیاں شروع کردی ہیں۔ پیر کے روز کی گئی ان کھدائیوں میں فولادی ستون نصب کیے جائیں گے۔ یہ کھدائیاں وادی حلوہ کالونی کے داخلی راستے پر کی جارہی ہیں۔
پیر کے روز سلوان ٹاؤن کے اہل علاقہ نے بتایا کہ اس موقع پر اسرائیلی پولیس کام کرنے والے یہودی مزدوروں کو بھرپور تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ اہل علاقہ کی اکثریت کی جانب سے ان کھدائیوں کی مخالفت کے باوجود پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تعمیراتی کام صہیونی بلدیہ سے اجازت لیکر کیا جارہا ہے لہذا اس کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز اہل علاقہ نے کھدائیوں کے لیے آنے والے مزدوروں کو کام سے روک دیا تھا اور زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اہل علاقہ نے اس مقام کی طرف آنے والے راستوں میں ٹین کی رکاوٹیں رکھ دی تھیں۔ تاہم منگل کی صبح اسرائیلی پولیس کی بڑی تعداد بھی ورکرز کے ہمراہ موقع پر پہنچی اور اپنی نگرانی میں کام شروع کروا دیا۔
وادی حلوہ اسٹڈی سنٹر نے بتایا کہ اسرائیلی حکام القدس شہر میں مراکشی دروازے کے صحن میں میں ”مرکز کیڈم” کے نام سے یہودی مرکز قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ مرکز مسجد اقصی کی دیواروں سے انتہائی قریب ہوگا جس کی سات منزلیں ہونگی، مرکز کے لیے تین ہزار مربع میٹر فلسطینی اراضی استعمال کی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلارعات فلسطین
