یہودی آباد کاری کی تنظیم ”عطرات کوھنیم” کے رکن آری کینگ اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے معروف امریکی کروڑ پٹی ارون موسکووٹز کی تنظیم کے ذرائع نے القدس میں یہودی آباد کاری کے متعدد نئے اسرائیلی منصوبوں کا انکشاف کیا ہے۔
تازہ انکشافات کے مطابق ان منصوبوں کے مطابق شیخ جراح، سمیر میس، الطور اور راس العامود کالونیوں میں یہودیوں کے لیے نئے گھر تعمیرکیے جائیں گے۔ اسی طرح بیت حنینا کے علاقے اشقریہ میں بھی یہودی آبادکاری کا ایک منصوبہ تشکیل دیدیا گیا ہے۔
آرے کینگ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ”فیس بک” کے اپنے پیج پر کہا کہ آنے والوں دنوں میں بیت حنینا اور راس العامود میں یہودی آباد کاری کے بڑے منصوبوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو القدس شہر سے چودہ فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرنے اور 4400 مربع میٹر فلسطینی اراضی ہتھیانے کے کیس کی سماعت ہوگی۔
آرے کینگ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی سماعت کے بعد عدلیہ القدس میں عربوں کے خلاف بے دخلی کا بڑا فیصلہ سنا دے گی جس کے بعد ان جائیدادوں جہاں پر یہودی خاندان آباد ہیں سے عربوں کا بڑے پیمانے پرانخلاء ممکن ہو جائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
