فلسطینی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ریڈ کراس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر ڈیڑھ سال سے احتجاجی کیمپ لگانے والے القدس کے رکن پارلیمان محمد طوطح اور سابق وزیر خالد ابو عرفہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کے مطابق فلسطینی پارلیمان میں تبدیلی و اصلاح بلاک کے منتخب اراکین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پونے دو سال قبل اسرائیلی حکام نے القدس سے منتخب ہونے والے چار فلسطینی اراکین پارلیمان کو شہر بدری کے احکامات سنائے تھے جس کے بعد چاروں نے ریڈ کراس کےدفتر کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا، تاہم اس دوران دو اراکین محمد عطون اور محمد ابوطیر کو اسرائیلی فورسز پہلے ہی گرفتار کر کے القدس سے باہر بھیج چکی ہیں۔
گرفتار کیے جانے والے محمد طوطح اور خالد ابو عرفہ کے اہل خانہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام ان دونوں کو بھی زبردستی القدس سے باہر رہنے پر مجبور کردیں گے۔
قبل ازیں دو ہفتے قبل محمد طوطح اور ابو عرفہ کو اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے فون پر اڑتالیس گھنٹوں میں کیمپ خالی کرنے کی دھمکی دی گئی تھی تاہم دونوں نے ان دھمکیوں کو نہ ماننے کا اعلان کیا تھا۔
پونے چھ سو دنوں تک احتجاجی دھرنا جاری رکھنے والے دونوں فلسطینی رہنماؤں کو ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا ہے جب اسرائیلی فورسز نے تین روز قبل فلسطینی پارلیمان کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک اور رکن پارلیمان خالد طافش کو گرفتار کر چکی ہیں۔ طوطح اور ابوعرفہ کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی جیلوں میں مقید فلسطین یاراکین پارلیمان کی تعداد ستائیس تک جا پہنچی ہے۔

