اسرائیلی کنیسٹ کے بیس اراکین نے مقبوضہ مشرقی القدس کے علاقے جبل زیتون پر واقع قبرستان پر ’’ قبرستان سرپرستی قانون‘‘ کے تحت قبضہ کرنے کا بل پارلیمان میں پیش کر دیا ہے۔ اس مقام پر گزشتہ دنوں اسرائیل نے جعلی قبریں کھودی تھیں۔
القدس اور مسجد اقصی سے متعلق ایک ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی اراکین پارلیمان نے ’’زیتون پہاڑی پر قبضے‘‘ کے نام سے پیش کردہ قانون پیش کیا ہے جس کا ہدف اس جعلی قبرستان کو دنیا کے سامنے تاریخی یہودی قبرستان بنا کر پیش کرنا ہے۔ اس بل کو صہیونی دائیں بازو کی جماعت کے بیس اراکین پارلیمان نے پیش کیا، یہ بل بھی اسی اسرائیلی منصوبے کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد زیتون پہاڑ پر قبضہ کرنا اور اس کی اسلامی شناخت مسخ کرکے اسے یہودی رنگ میں رنگنا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل نے اس علاقے میں یہودیوں کی جعلی قبریں کھودی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
