عمان میں القدس فورم کے سربراہ اسحق فرحان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگ میں ثقافتی اقدار ایک اسلحہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور بیت المقدس کی آزادی کی جنگ کے اگلے مرحلے میں یہی اسلحہ کام آئیگا۔ عمان میں فورم کے چوتھے سیشن کے دوران انہوں نے القدس کی خدمت میں ثقافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اسحق فرحان جنہیں اسی کانفرنس کے دوران القدس فورم کا سربراہ چنا گیا ہے نے کہا کہ فورم اہالیان القدس کی اگلی نسل کو مسجد اقصی کی آزادی اور اسے قابض صہیونی دشمن کے چنگل سے نکالنے کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر چلنے کی ترغیب دینے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
اس موقع پر فورم کے سابق سیکرٹری انجینئر وائل البطاینہ نے اس فورم کے سابقہ دور کے سفر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فورم کی کامیابیوں کا حجم کافی بڑا ہے۔ ہم نے اپنے سابق دور میں القدس سائنسز کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے۔ اس ضمن میں ہم نے مسجد اقصی اور القدس کے امور سے آگاہی میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ ہم نے اس مقصد کے لیے متعدد ابتدائی اور ثانوی نوعیت کی دورے کروائے۔
ان کا کہنا تھا کہ القدس فورم نے ایک کام یہ کیا کہ اردنی یونیورسٹیوں اور خاص اسکولوں میں بیت المقدس سے متعلق نمائشوں کا اہتمام کیا اس طرح قرآن کریم کے حفظ کے اداروں میں بھی ایسے ہی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔
القدس کلچرل فورم کے ڈائریکٹر احمد الشیوخی نے واضح کیا القدس فورم اگاہی، تعلیم، سائنسی اور اکیڈمک شعبوں میں القدس کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے پروگراموں کا انعقاد کر رہا ہے۔ اسی طرح اردن کو القدس کی خدمت کے لیے تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا جارہا ہے۔
اس سیشن کے دوران القدس کلچرل فورم کی نئی ایگزیکٹو کمیٹی کا قیام بھی عمل میں آیا۔ جس میں ڈاکٹر اسحاق الفرحان کو اس فورم کا سربراہ چنا گیا۔ اس کمیٹی کے دیگر اراکین کے لیے یسر حمد الجازی، ڈاکٹر ادب العسود، وکیل غیث المعانی، ڈاکٹر امانی الحدید، ڈاکٹر عدیہ مطلق، نضال العبادی، ڈاکٹر نبیل السعدون اور نصر العتوم کو چنا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
