اسلامی مسیحی کونسل برائے القدس اور مقدس مقامات کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حنا عیسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ہاؤسنگ کی وزارت اور بلدیہ کی جانب سے جبل ابوغنیم کے علاقے میں 930 رہائشی یونٹس پر مشتمل عمارت صور باھر اور بیت لحم کو ملانے سے روکنے والے یہودی منصوبے کا ہی حصہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے تعمیراتی کام تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر عیسی نے زور دیا کہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں یہودی آباد کاروں کی موجودگی اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے فلسطینیوں کے آزادانہ نقل و حرکت کا حق بھی شدید متاثر ہو رہا ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہو رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایک ہزار کے قریب نئے رہائشی یونٹس میں ہجرت کرکے فلسطین آنے والے یہودیوں کو بسایا جائے گا جس کا مقصد القدس کی آبادی کے تناسب کو یہودیوں کے حق میں کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی اراضی پر یہودیوں کے لیے حالیہ عرصے میں ہزاروں رہائشی یونٹس تعمیر کیے گئے جن کا مقصد اسرائیلی فوج کو موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں کے ذریعے فلسطینی اراضی کو زیادہ سے زیادہ یہودی رنگ میں رنگ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہودی بستیاں ہی تنازع کا اصل نقطہ نہیں بلکہ اسرائیلی چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں سے اسرائیلی فوج کی یہاں موجودگی بھی تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
