اسرائیلی حکومت مقبوضہ مشرقی القد س کو یہودی رنگ میں رنگنے کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نئے سال کے آغاز پر صہیونی حکمرانوں نے پینتالیس سال سے صہیونی جارحیت کے شکار اہالیان القدس کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے
اس مقدس شہر میں نئی یہودی بستی کا افتتاح کر دیا۔یہ بستی باب العامود کے قریب تعمیر کی جائیگی۔
اس اعلان کے ساتھ ہی خود کو انسانی حقوق کی علم بردار ریاست کہلانے والے اسرائیل نے اس سال کے اپنے ’نیک‘ عزائم بھی ظاہر کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے سن 1967ءمیں مغربی کنارے اور مشرقی القدس پر اپنے قبضے کے بعد سے تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہاں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل مشرقی القدس میں پہلے ہی پچیس کے لگ بھگ یہودی بستیاں قائم کر چکا ہے۔ اسرائیل کے اس اعلان سے اپنے حقوق کے حصول کےلئے مزاحمت کا رستہ اختیار کرنے والوں کی مخالفت کرنے اور صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا دم بھرنے والی تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی کو بھی سخت ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا ہے۔
مشرقی القدس کے علاقے راس العامود کو تقسیم کرنے کے اس اعلان میں کہا گیا ”بلدیہ کی انتظامی کمیٹی کو ”کرن شالی“ لمیٹڈ کمپنی کی جانب سے نئے رہائشی گھر تعمیر کرنے کی درخواست وصول ہوئی جسے منظور کرلیا گیا، اس منصوبے کے تحت کمپنی قدیم اریحا کی مرکزی شاہراہ پر بھی سترہ نئے مکانات تعمیر کریگی“ نئی یہودی آبادی القدس کے تاریخی علاقے جبل زیتون کی راس العامود کالونی میں تعمیر کی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
