
ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات کو روکنے کی تمام عالمی کوششیں جلد ہی ختم ہو جائیں گی۔ سنہ 1967ء میں القدس کے مشرقی حصے پر قبضے اور مغربی اور مشرقی دونوں حصوں پر اپنے قبضے کے پینتالیس سال مکمل ہونے کی یاد میں منائے جانے والے ’’یروشیلم ڈے‘‘ کی مناسبت سے دیے گئے اپنے بیان میں نیتن یاھو کا کہنا تھا ’’ہم اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرونگا کہ القدس کو تقسیم کرنے سے فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن قائم ہو سکتا ہے، میں القدس میں تعمیرات جاری رکھوں گا اور اس کے لیے ساری دنیا کے سامنے کھڑا ہو جاؤں گا، میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ القدس ابد تک اسرائیل کا دارالحکومت برقرار رہے گا، ہم کبھی بھی القدس سے دستبردار نہیں ہوسکتے‘‘
صہیونی وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ القدس کی تقسیم مذہبی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ متحد القدس کے بغیر اسرائیل کمزور دل والے جسم کی مانند ہے۔ ہم اپنے دل کو کبھی دوبارہ تقسیم نہیں ہونے دینگے۔ اسرائیلی حکومت نے اس اجلاس میں مسلمانوں کے قبلہ اول کے اطراف پھیلے بابرکت شہر میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کی تصدیق کی اور آباد یہودیوں کی اقتصادی اور سماجی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، اس موقع پر صہیونی بستیوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو خصوصی سہولیات دینے کی اعلانکیا گیا۔ اس موقع پر القدس میں یہودی آباد کاری کے لیے اگلے چھ سالوں میں 350 ملین شیکل کا بجٹ بھی منظور کیا گیا۔
بنجمن نیتن یاھو نے حکومت کے تمام فیصلوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے ماضی کے سالوں میں حکومت کی بھاری سرمایہ کاری کی مرہون منت ہیں، آج ہمیں اپنے پرانے فیصلوں کے ثمرات مل رہے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز تیس ہزار کے قریب یہودی آباد کاروں نے القدس کی جانب ریلیاں نکالی تھیں، یہ ریلیاں سنہ 1967ء میں القدس کے مشرقی حصے پر قبضے کی یاد میں نکالی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب یہودیوں کی مشرقی القدس آمد کے جواب میں فلسطینی تنظیموں کے نوجوانوں نے بھی مسجد اقصی کا رخ کیا تھا۔ دن بھر فلسطینی نوجوانوں کی اسرائیلی پولیس سے جھڑپیں ہوتی رہیں اس دوران صہیونی اہلکاروں نے بعض فلسطینیوں کو گرفتار بھی کر لیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
