مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ منگل کے روز صہیونی فوج اور اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے صلاح الدین روڈ پر واقع نادر الشریف نامی فلسطینی کے مکان کا بلڈوزروں کے ذریعے گھیرائو کیا۔ مکان کا گھیرائو کرنے کے بعد اسے فوری طورپر خالی کرایا گیا۔ بعد ازاں بلڈوزر لگا کر اسے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کے نوٹسز کے مطابق مالک مکان پہلے بھی مکان کا کچھ حصہ گرا چکا ہے لیکن اس کے باوجود صہیونی انتظامیہ نے اس کا سارا مکان گرانے پر اصرار جاری رکھا۔ مسمار کردہ مکان 15 سال پیشتر تعمیر کیا گیا تھا۔ صہیونی شہری حکومت کا دعویٰ ہے کہ مکان اس کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔
نادر الشریف خاندان کے ایک ذریعے نے میڈیا کو بتایا کہ وہ سنہ 2013ء میں خود بھی مکان کا ایک حصہ گرا چکے ہیں لیکن صہیونی حکومت نے ان کے سارے مکان کو گرانے کے احکامات جاری کیے تھے اور انہی احکامات کے تحت سارا مکان ہی زمین بوس کر دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا ان کے مکان کو غیرقانونی قرار دے کر اس کا عدالت میں مقدمہ بھی چلایا گیا اور ہم سے ایک مکان کا سات اور دوسرے کے آٹھ ہزار شیکل جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔
درایں اثناء اسرائیلی حکام نے بیت المقدس میں مزید دسیوں شہریوں میں مکانات مسماری کے نوٹسز تقسیم کیے ہیں۔ شمال مشرقی بیت المقدس کے عیسویہ کے علاقے میں کئی فلسطینی شہریوں کو مکانات فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ انہیں دیے گئے نوٹسز میں بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے حکومت کی اجازت کے بغیر مکانات تعمیر کر رکھے ہیں۔ انہیں خالی کر کے خود ہی مسمار کیا جائے ورنہ انتظامیہ خود کارروائی کرے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
