اسرائیلی وزارت داخلہ کے زیرانتظام "ضلعی کمیٹی برائے تعمیر و منصوبہ بندی” مقبوضہ بیت المقدس میں جبل زیتوں کے مقام پرالمطع اسپتال کے قریب ایک ملٹری کالج کی
تعمیر کی منظوری دی ہے جس کے لیے فلسطینیوں کی اراضی پرغاصبانہ قبضے کا حکم دیا گیاہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی تجزیہ نگار اور یہودی آباد کاری کے امور کے ماہر احمد صب لبن نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی وزارت داخلہ کی ضلعی کمیٹی برائے تعمیر و منصوبہ بندی نے جبل زیتون کے مقام پر فوجی کالج کی تعمیر کےخلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے وہاںپر چودہ ایکڑ کے رقبے پر کالج کا نقشہ جاری کیا ہے۔ یہ تمام اراضی فلسطینیوں کی ملکیتی ہے جسے ہتھیانے کے لیے ملٹری کالج کا جھانسہ تیار کیا گیا ہے۔ احمد صب نے بتایا کہ زیرغور کالج کے منصوبے کی آڑ میں اسرائیلی حکومت بیت المقدس میں اپنی توسیع پسندی کو آگے بڑھا رہی ہے کیونکہ اسی کالج میں فوجی افسران کے دفاتر جس میں آرمی چیف کا دفتر بھی ہوگا شامل کیے گئے ہیں۔ نقشے کے مطابق کالج میں چار سو طلباء ملٹری ٹریننگ لے سکیں، جس میں ایک سو تیس ملٹری انسٹرکٹرز کے لیے اقامتی ہاسٹل بھی بنائے جائیں گے۔
فلسطینی تجزیہ نگارنے بتایا ہے کہ صہیونی حکومت کی یہ بھی نیت ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس میں کئی اہم حکومتی دفاتر کو بھی اسی کالج میں منتقل کرنا چاہتی ہے، تاکہ مشرقی بیت المقدس پر اپنا تسلط مزید مضبوط بنایا جاسکے۔ احمد صب لبن نے بتایا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے اس ایک ہفتے کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کے کئی بڑے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں مشرقی تلبیوت نامی کالونی میں ایک سو اسی مکانات، جبل ابو غنیم کالونی میں ایک سو اکہتر اور بیت اوروط میں چوبیس مکانات کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ تمام تعمیرات مشرقی بیت المقدس میں ہوں گی، جن کا اصل مقصد یہودیوں کے لیے رہائش کا انتظام کرن نہیں بلکہ صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھانا اور مقبوضہ بیت المقدس پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
