مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ نے شہر میں 43 شاہراہوں کے عربی نام بدل کر انہیں عبرانی ناموں سے موسوم کرنے کی منظوری دی ہے۔ فلسطینی کثافت والی کالونیوں میں سڑکوں کے عرب ناموں کو تبدیل کر کے عبرانی نام رکھنے کی مہم ایک عرصے سے جاری تھی۔
صہیونی بلدیہ امسال مشرقی القدس کی 141 شاہراہوں اور گلیوں کے نام عربی زبان سے عبرانی میں تبدیل کئے اور اب مشرقی القدس کی مزید 43 سڑکوں کے نام بدلنے کرنیکی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس طرح امسال 184 شاہراہوں کے ناموں کو یہودی تہذیب سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر شہر کی عرب شناخت ختم کرتے ہوئے اسے یہودی رنگ میں رنگنے کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
میونسپلٹی نے مسلمانوں کے قبلہ اول کے گرد بسنے والے اس بابرکت شہر کی سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ صہیونی حلقے ناموں کی تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سڑکیں گزشتہ کی دہائیوں سے بےنام یا غیر معروف تھیں جنہیں عبرانی نام دینے کے بعد ان شاہراہوں اور گلیوں کی تعمیر نو میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔
