رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری نے بتایا کہ بارڈر پولیس کےاہلکاروں نے باب العامود کے مقام پر ایک 18 سالہ فلسطینی لڑکے کو روک کر اس کی تلاشی لی تو اس کے قبضے سے ایک چاقو برآمد ہوا ہے تاہم اس نے کسی یہودی فوجی پر اس چاقو سے حملہ نہیں کیا۔ چاقو قبضے میں لینے کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے فلسطینی نوجوان کا تعلق بیت المقدس کے نواحی علاقے قطنہ سے ہے۔ اس سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں پر چاقو سے قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔
خیال رہے کہ بیت المقدس میں حالیہ دنوں میں باب العامود کے مقام پر فلسطینیوں کی کئی مزحمتی کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ چند ایام میں باب العامود میں 13 بار صہیونی قابض فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
