مقبوضہ بیت المقدس میں انتہاء پسند یہودی آباد کاروں نے اقوام متحدہ کی زیر ملکیت متعدد کاروں اور فلسطینی گھروں کے باغات کو نذر آتش کردیا ہے۔ یہ کارروائی یہودی تہوار ’’عید الشعلہ‘‘ کی مناسبت سے منعقد تقریبات میں شریک یہودیوں نے کی۔
وادی حلوہ مطالعاتی مرکز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی زیر ملکیت نو کاروں کو جبل المکبر کالونی میں نذر آتش کیا گیا۔ ادھر دنیا کے سامنے امن پسندی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے جنونی یہودیوں نے القدس کی شیخ جراح کالونی میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کے تین باغات کو بھی نذر آتش کردیا۔
ذرائع کے مطابق یہودی رسومات کی ادائیگی کرنے والے یہودی آباد کاروں نے اچانک اقوام متحدہ کی مندوب کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا اور گیراج میں کھڑی نو کاروں کو آگ لگا دی۔ ادھر یہودی تہوار کے موقع پر جنونی یہودیوں نے تین فلسطیین گھروں پر بھی حملہ کیا، یہ گھر المغربی، الجاعونی اور الخطیب خاندانوں کی زیر ملکیت تھے۔
وادی حلوہ مطالعاتی مرکز نے علاقے کے ایک شہری محمود المغربی کا بیان نقل کیا کہ ہم گھر میں موجود تھے کہ اچانک ہمیں شعلوں کے بلند ہونے اور دھویں کے بلند ہونے کا احساس ہوا، جیسے ہی ہم نے باہر نکل کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ایک مرسیڈیز میں آگ لگی ہوئی ہے۔ جنونی یہودیوں کو دیکھ کر اس علاقے میں کھڑی دیگر گاڑیوں کے مالکان نے فوری فرار کی راہ اختیار کی۔ اس دوران یہودی صنوبر کے قدیم ترین درختوں کو نذر آتش کر چکے تھے۔ ان درختوں کی عمر ڈیڑھ سو سے دو سو سال کے درمیان تھی۔ اس طرح چھ سو مربع میٹر پر موجود درختوں کو شدید نقصان پہنچا۔
المغربی نے بتایا کہ ان کے خاندان کے تین افراد اس آتشزدگی کی زد میں آکر زخمی ہوگئے ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ آگ میں جھلسنے والوں میں 65 سالہ حسیبہ عبد اللہ المغربی، 44 سالہ محمد عبد اللہ قاسم المغربی اور 41 سالہ نضال شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران بجلی بھی منقطع کردی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
